اصل مقصدِ قیام
مظاہرعلوم کا اصل مقصدِ قیام
حضرت مولانا خلیل احمد مہاجر مدنیؒ نے ایک موقع پر مظاہر علوم کے بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
حضرات!مدرسہ کی تعلیم سے اس غرض کاحاصل کرنا مقصود ہے جس کے لئے انسان اشرف المخلوقات بناکر پیداکیا گیا غالباً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ کون سی غرض ہے جس کے پورا کرنے کو انسان پردۂ عدم سے جلوہ گاہ وجود میں آیا ہے۔ وہ عبادت و معرفت الٰہی کی ایک عظیم الشان امانت ہے جس کے برداشت کرنے سے آسمان و زمین تک عاجز تھے مگر انسان نے اس کو برداشت کیا ؎
قرعۂ فال بنام من دیوانہ زدند
ڈر گئے ارض وسماں بارِ امانت سے مگر
ہم سے دیکھا نہ گیا حکم آپ کا رسوا ہونا
ابتداء عالم سے اس وقت تک جس قدر انبیاء و رسل علیہم السلام آئے سب اسی امانت الٰہی کی یاد دہانی کرتے آئے یہاں تک کہ سب کے بعد سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لاکر اس عالم کوآئینۂ حیرت بناکر دکھا دیا کہ عبادت الٰہی اس کا نام ہے اور معرفت خداوندی کے طریقے یہ ہیں جو کام آج تک کسی سے پورا نہ ہوا تھا آپ نے اپنے قول و فعل سے اس کی تکمیل فرمادی اور جب تک عرفات کے کھلے میدان میں لاکھوں مخلوق کو گواہ کرکے اپنے فرض منصبی کو باحسن وجوہ ادا کر دینے کا اقرار نہ لے لیا اس وقت تک دنیا کو اپنے انوار و تجلیات سے سرفراز فرماتے رہے، اسی وقت یہ فرمانِ الٰہی نازل ہوا الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا. انسان کی شرافت کا اصلی سبب اور اس کے اشرف المخلوقات ہونے کا حقیقی راز یہی عبادت و معرفت الٰہی کی عظیم الشان دولت ہے جس کے برداشت کی قابلیت کا دعوی بجز انسان کے کسی نے نہیں کیا، اسی عبادت و معرفت الٰہی کی تعلیم اس مدرسہ کی انتہائی غایت ہے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق حق تعالیٰ شانہ کی عبادت و معرفت کا سیدھا راستہ تمام عالم کو بتلایا جائے۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ مدرسہ کا ہر ہر طالب علم اس غایت کو بخوبی انجام دے سکتا ہے اور نہ ایسا دعویٰ کوئی فرد و بشر کرسکے کیونکہ
دس لڑکے جو ایک ہی ماں باپ سے ہوں خوبی، صورت و سیرت میں یکساں نہیں ہوسکتے پھر آپ اس کے خواہش مند کیوں ہیں کہ ایک مدرسہ کے تمام تعلیم یافتہ (طلبہ) عبادت و معرفت الٰہی کا حصہ مساوات کے ساتھ لئے ہوئے ہوں۔
حضرات! دینی مدارس کے طلبہ میں بھی مختلف درجے ہیں مگر وہ کامل النفوس حضرات بھی انہی میں ہیں جو جہل و کفر کی تاریک شب میں چودھویں کا چاند بنکر جلوہ دکھاتے ہیں، حکایت مشہور ہے کہ کسی بادشاہ کا موتی رات کے وقت کھو گیا تو اس نے حکم دیا کہ اس جنگل کے تمام سنگ ریزے جمع کرلئے جائیں کہ انہی میں سے وہ گوہر نایاب بھی دستیاب ہوجائے گا، اسی طرح طالبانِ علوم دینیہ کا ہر فرد اس لحاظ سے قابل قدر ہے کہ شریعت کی روشنی کو چار دانگ عالم میں پھیلا دینے والا شخص بھی انہیں میں مستور ہے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آج کل رازی و غزالی، جنید و شبلی پیدا نہیں ہوتے؟ گویا در پردہ جماعتِ علماء پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے مدارس کی تعلیم کو مکمل نہیں کرتے مگر ہم اس سائل سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آج کل قوائے جسمانیہ پہلے لوگوں کی طرح نہیں پائے جاتے، پہلے زمانے میں زکام،نزلہ کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا اور آج کل قریب قریب ہر شخص اس کا شکار ہے۔ بجز اس کے کہ یہ کہا جائے کہ ہر پچھلے زمانہ کی قوت کو پہلے زمانے سے تفاوت ہے بعینہ یہی جواب ہمارا ہے کہ پچھلے زمانہ کی عقل و فہم و قوت حافظہ کو پہلے زمانہ سے بہت کچھ تفاوت ہے اسلئے جس کثرت سے پہلے زمانہ میں لائق اقتداء علماء پیدا ہوئے تھے اب اس قدر نہیں ہوتے۔ نیز یہ کہ دین کو دنیا سے ضد ہے (بلکہ دونوں سوکنیں ہیں) جس زمانے میں دنیوی ترقی کا چرچا ہوگا دینی ترقی اس میں کامل طور سے نہیں ہو سکتی، اس زمانے میں دین کی طرف وہ توجہ نہیں جو پہلے زمانے میں تھی، شرفاء و اغنیاء کی اولاد تو عیش پرستی اور دنیا طلبی کی تعلیم حاصل کریں اور غرباء و پست ہمت لوگ علم دین کی طرف توجہ کریں پھر رازی اور شبلی کہا سے پیدا ہوں؟
آخرت کی مسئولیت
حضرات! یہ قرآن و حدیث آپ کے ہاتھوں میں سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہے، اگر اس شافع محشر کے سامنے سرخ رو ہونا منظور ہے تو اس کی خدمت جس قدر ہو سکے کیجئے ورنہ اس وقت کیلئے کوئی جواب سوچ لیجئے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا میدانِ حشر میں سامنا ہوگا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حق تعالیٰ شانہ کے دربار میں عرض کرینگے یارب ان قومی اتخذوا ہٰذا القرآن مہجورا بارا لٰہ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑدیا تھا۔
( اقتباسات ازروداد مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور ۱۳۳۵ھ )
گزارش
یہ گزارش ہے کہ مدرسوں کو اور جملہ طالب علموں کو یہ بات یادرہے کہ چندہ گزاران کی غرض مدرسہ (مظاہرعلوم)بنانے اور طالب علموں کے کھانا دینے اور مدرسوں کے مقرر کرنے سے صرف دینیات کی ترویج واشاعت اورمنقولات کا پھیلانا مدنظر ہے جو اس زمانے کے مدارس میں فروگزاشت ہوگیا اورہوتا جاتا ہے توچاہئے کہ علوم دینیہ کومقصود اصلی جانکر تحصیل کریں ورنہ مدرسوں کی اوقات ضائع ہوگی اور چندہ (دینے) والوں کی غرض حاصل نہ ہوگی۔
کیں رہ کہ تو میروی بترکستان ست
( کیفیت مدرسہ عربی سہارنپور بابت۱۲۹۱ھ )
مدرسہ کا نصب العین
مدرسہ کا سب سے اہم مقصد علوم دینیہ کی تعلیم ہے، مدرسہ کی غرض اور واقفین و معاونین مدرسہ کے اوقاف وعطایا اسی غرض کیلئے مدرسہ میں آئے ہیں۔ مدرسہ کی پچھتر سالہ روایات اس کا بین ثبوت ہیں، مدرسہ اور ارباب مدرسہ ہمیشہ تمام گروہوں اور جماعتوں سے الگ رہے ہیں، مدرسہ کا تعلق کسی خاص گروہ سے نہیں ہے، مدرسین مدرسہ کو اپنے اسلاف کی روایات کا اتباع لازمی ہے اور ان کے فرائض میں یہ چیز داخل ہے کہ مدرسہ میں رہتے ہوئے وہ کسی ایسی تحریک میں حصہ نہ لیں جو مسلمانوں میں افراتفری کا باعث ہو یا اس سے مدرسہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اس مدرسہ کے طلباء کیلئے بھی یہ لازمی ہے کہ وہ مدرسہ کے اصول اورنصب العین کے مطابق اپنے تعلیمی مشغلہ میں دلچسپی کے ساتھ مشغول رہیں، ہمارا تجربہ ہے کہ جو لوگ طالب علمی کے زمانہ میں سیاست میں حصہ لیتے ہیں وہ اپنے اصلی مقصد میں ناکام رہتے ہیں۔
یہ مدرسہ ایک (خالص) دینی مدرسہ ہے، اس کے طلباء کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس کے آئین اوراغراض ومقاصد کے خلاف کوئی کام نہ کریں،ان کو وضع قطع ،لباس اور طرز معاشرت میں اپنے اسلاف کا اتباع کرنا چاہئے۔
(ازقلم مفتی مظاہرعلوم حضرت مولانا قاری سعید احمد اجراڑویؒ مخطوطہ ۱۳۵۸)
طریقۂ تدریس
اکابر مظاہر علوم عبارت کتاب کو حل کرنے اور نفس مضمون کو دل نشین کرنے پر زیادہ زوردیتے، درس کے دوران مختلف فیہ مسائل کی تشریح و تعبیر نہایت سادہ الفاظ اور آسان زبان میں فرماتے اور اصل مقصد متن کی تفہیم کے بعد شراح کی مختلف توجیہات میں ملخص طور پر جامع توجیہہ آخر میں بیان فرماتے جو سب سے زیادہ معقول ہوتی اس طریقۂ تعلیم سے نفس مضمون اور خلاصۂ مطلب طلباء کو بخوبی ذہن نشین ہوجاتا۔ (مظاہرعلوم کے بنیادی مقاصد)
امتیازات و خصوصیات
جن کی بناء پر یہاں کی تعلیم و تربیت اور انتظام دوسرے مدارس سے ممتاز رہا!
(۱)مظاہر علوم کا مذہب و مسلک و مشرب :سنیت و حنفیت اور چشتیت ہے۔
(۲)شریعت و طریقت کی جامعیت اور ذکر الٰہی و فکر باطنی کا اہتمام و التزام ہمیشہ معمول اکابر مظاہر علوم رہا ہے۔
(۳)مؤسسین مظاہر علوم، اس کے اولین سرپرستان اور مہتممین و منتظمین نے مدرسہ کو ملک خداوند تعالیٰ اور خالص مذہبی بنایا اور اسی طرز پراس کو باقی رکھنے کی کوشش کی۔
(۴)معمولی تنخواہوں پر قناعت کرنے والے مخلصین ملازمین رہے۔
(۵)تعلیم و تربیت اور تزکیۂ نفس کے ساتھ دعاۃ و مبلغین اسلام کی تیاری۔
(۶)سرپرستان، نظماء و مہتممان اور مدرسین عظام عموماً اسی مادر علمی مظاہر علوم کے افاضل مقرر کئے جاتے رہے ہیں۔
(۷)دین حق کے بارے میں اکابر مظاہر علوم ہمیشہ باغیرت و حمیت رہے ہیں۔
(۸)امور سیاست مروجہ سے متعلق مظاہر علوم کا طرۂ امتیاز شروع سے یہ رہا ہے کہ یہاں سے وابستہ رہتے ہوئے سیاست کے بارے میں قلم اور قدم ہرگز نہیں اٹھایا گیا۔
(۹)مظاہرعلوم کے ناظم و مہتمم، مفسر و محدث اور فقیہ و صوفی، مدرس و منتظم جامع قسم کے حضرات مقررکئے گئے ۔
(۱۰)مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور صرف اور صرف احیائے علوم دینیہ اور اشاعت سنت نبویہ کے لئے ہی قائم کیا گیا تھا جس کے بانیان، سرپرستان، نظماء اور متعلقین و معاونین کو اصل سرمایہ توکل علی اللہ تھا اور مدرسہ کا از ابتداء تحفظ اور اس کی بقاء اللہ جل شانہ و عم نوالہ کے حوالہ اور سپرد سمجھی گئی۔ چنانچہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا ارشاد ہے کہ
’’مدرسہ مقصود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے!
(مکتوب فقیہ النفس حضرت مولانا گنگوہیؒ،بنام حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ و حضرت مولانا خلیل احمد انبہٹویؒ)
اغراض ومقاصد
(الف) علوم اسلامیہ یعنی قرآن مجید و تفسیر و حدیث و فقہ و عقائد و کلام کی مسلمانان عالم کو مفت تعلیم دینا اور علوم نبوت کو فروغ دینا۔
(ب)دیگر علوم و فنون کی جو عربی زبان کی تحصیل یا مذہبی اغراض کیلئے ضروری یا مفید ہوں، نیز اُردو، فارسی اور حسابات کی بقدرِ ضرورت تعلیم دینا اور علمی تحقیق کیلئے ایک کتب خانہ کا ہونا۔
(ج) انسانی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے اور تہذیب اسلامی سے آشنا کرنے کی کوشش کرنا۔
(د) روایات اسلامیہ کا تحفظ احکام شرعیہ کی ترویج، دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ اور ملت اسلامیہ کا تحفظ بذریعہ تحریر و تقریر کرنا۔
(ھ) دینی تعلیم و تبلیغ کے ذریعہ سلف صالحین کے اسلامی اخلاق و اعمال کو زندہ کرنا۔
(ط) علوم دینیہ کی اشاعت کیلئے مختلف مقامات پر مدارس (و مکاتب)دینیہ قائم کرنا اور قائم شدہ مدارس کا مدرسہ سے الحاق کرنا۔
مدرسہ کا مسلک
(الف) مسلک مدرسہ ہٰذا مسلک اہل السنۃ و الجماعۃ، حنفی مذہب پر ہوگا جوکہ حضرت اقدس مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سرپرست اول مدرسہ ہٰذا و حضرت قاسم العلوم مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہم اللہ اجمعین کے مشرب سے ظاہرہے۔
(ب)مدرسہ کا مسلک کی حفاظت و رعایت اور ترویج و اشاعت جملہ سرپرستان، ناظم و مہتمم، اساتذہ و ملازمین، متعلقین اور طلباء مدرسہ پر لازمی ہوگی۔
(ج)کسی ملازم یا طالب علم مظاہر علوم کو اجازت نہ ہوگی کہ وہ کسی ایسی جگہ شرکت کرے جس جگہ کی شرکت مظاہرعلوم کے مسلک یا مفاد کے لئے ضرر رساں ہو۔
(د) کسی اشتباہ کے موقع پر مجلس یا ناظم کو حق ہوگا کہ وہ مدرسہ کے مسلک کے بارے میں کوئی اعلان جاری کرکے یا تقریر کے ذریعہ غلط فہمی دور کرے۔ ( از دستور العمل مظاہر علوم سہارنپور مجوزہ ۱۳۹۹ھ)
سیاسی مسلک
مظاہر علوم کے اکابر کا طرز عمل شروع ہی سے یہ رہا ہے کہ وہ سیاسی معاملات سے ہمیشہ الگ تھلگ اوردُور رہے ہیں اور کھلم کھلا سیاست میں گھسنے کو جامعہ مظاہر علوم کیلئے مضر، اپنے بنیادی مقاصدکے خلاف سمجھتے رہے ہیں، اگر کوئی سیاسی ہستی اور دنیوی شخصیت اکابر سے عقیدت و محبت کی بنیاد پر ملاقات و زیارت کے شوق میں نعم الامیر علی باب الفقیر کے طرز عمل پر آ ہی گئی تو اکابر نے ان کی عظمت و وجاہت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کریمانہ اخلاق کا ثبوت پیش کیا اوران کی شایان شان اکرام و اعزاز فرمایا۔
۱۹۱۷ء
(۱۳۳۴ھ)
میں اس چیز کی وضاحت ’’مدرسہ کے اصلی مقاصد‘‘ میں ان الفاظ میں بھی کردی گئی تھی کہ
’’یہ امر سب کو معلوم ہے کہ اس مدرسہ میں کسی وقت میں تعلیمی مشاغل کے علاوہ بلاضرورت غیر متعلق مباحث سے کام نہیں لیا گیا اور خصوصاً پولیٹکل معاملات اور سیاسی واقعات سے ہمیشہ اعراض ہی نہیں کیا گیا بلکہ محض بے تعلقی رکھی گئی کیونکہ یہ دونوں باتیں ہمارے (مدرسہ کے) اصل مقصد کے بالکل خلاف تھیں‘‘۔
شائع کردہ: حضرت مولانا عنایت الٰہی مہتمم مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور
حضرت مولانا مفتی مظفر حسینؒ نے اپنے دور اہتمام میں ایک بار مختلف اخبارات میں یہ اعلان شائع کرایاکہ
’’آج کل کے حالات کے پیش نظر میں واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مدرسہ مظاہر علوم کا کوئی سیاسی مسلک یا کسی بھی سیاسی جماعت سے اس کی کوئی وابستگی نہیں ہے، اگر مدرسہ کا کوئی مدرس و ملازم یا اس سے متعلق کوئی سیاسی رائے رکھتا ہے تو یہ اس کا نجی اور ذاتی فعل ہے، مدرسہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں‘‘ (آئینہ ٔ مظاہر علوم جلد ۴، شمارہ ۴،صفحہ ۴)






