mazahiruloom@gmail.com 9557424474

اہداف(منصوبے)

تعمیرات جدیدہ مدرسہ مظاہر علوم (وقف) سہارنپور

مسجد شاخ خلیلیہ:

یہ وسیع عمارت مدرسہ کی باقی عمارتوں سے فاصلہ پرشہر کے جنوبی حصہ میں گھنٹہ گھرکے پاس واقع ہے یہ ۱۳۴۸ھ مطابق ۱۹۲۸ء میں جناب رائو عبد العزیز نے مدرسہ کو وقف فرمائی تھی۔ یہاں درجۂ قرآن شریف حفظ وناظرہ اور عربی کی ابتدائی تعلیم ہوتی ہے طلبہ کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں رہتی ہے۔ نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے یہ مسجد ناکافی ہوگئی تھی، اس لئے اہل خیرکی مبارک ومسعود کوششوں سے دومنزلوں پرمشتمل نئی تعمیرکرائی گئی ہے۔اہم جزوی امورزیرتکمیل ہیں۔

جدیدتعمیری منصوبے

شاخ مظفریہ محلہ اسلام آباد 10,00,00,000(دس کروڑروپے)

جناب احسان الحق صاحبؒ نے اپنی حیات میں تقریباً ساڑھے چارہزار مربع گز کا ایک قطعہ آراضی مدرسہ کو سرکاری اسٹامپ پر باضابطہ تحریر اوررجسٹرڈ کراکر وقف کیا تھا ، مدرسہ کی اس موقوفہ جائداد پر سردست دو منزلوں پر مشتمل شاندار درسگاہوں، قیام گاہوں اور وسیع وعریض خوبصورت مسجد کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ نقشہ کے اعتبار سے اس پر تقریباً دس کروڑ روپے صرف ہوں گے ۔

توسیع مسجدکلثومیہ: 5,00,00,000(پانچ کروڑروپے)

دارالطلبہ قدیم میں واقع یہ مسجد ناکافی ہونے کی وجہ سے سہ منزلہ کرنے اوراس کا برآمدہ بنانے کی بہت ضرورت ہے اس وقت برسات اور سردی کے موسم میں نمازیوں کو ناقابل برداشت دقت اورپریشانی اٹھانی پڑتی ہے،سردست ایک معیاری ٹین شیڈ ڈلوادیا گیاہے جس کی وجہ سے بارش سے تو حفاظت ہوگئی ہے تاہم نمازیوں کے لئے معقول گنجائش اسی وقت ممکن ہوسکے گی جب سہ منزلہ ہوجائے ،اس سلسلہ میں خصوصی توجہ فرمائی جائے ۔ اس کی تعمیر پر تقریباًپانچ کروڑ روپے صرف ہوں گے۔

مسجداولیاء دفتر مدرسہ قدیم: 2,00,00,000(دوکروڑروپے)

مدرسہ کی یہ سب سے قدیم مسجد ہے، مشہوردعوتی تحریک ’’تبلیغی جماعت ‘‘ کا وجود باجود اِسی مسجد سے ہوا،اپنی قدامت، بوسیدگی اور مصلیان کی کثرت کے باعث تعمیرجدید کا فیصلہ لیاگیاہے ،یہ مسجد ان شاء اللہ چار منزلوں پرمشتمل ہوگی۔ تقریباًپانچ کروڑروپے کے مصارف کااندازہ ہے۔

دارالتجوید 2,00,00,000(دوکروڑروپے)

دارالطلبہ قدیم اوراحاطہ مطبخ کے وسط میں لب سڑک مدرسہ کی ایک عمارت ’’دارالتجوید‘‘ کے نام سے موسوم ہے جہاں زیریں حصہ میں مدرسہ کا ڈاک خانہ اور چند دُکانیں ہیں ، بالائی حصہ پر تجوید و قراءت کی تعلیم کانظم ہے۔یہ عمارت بھی بہت کمزور ہوچکی ہے نقشہ کے مطابق یہ عمارت ان شاء اللہ چارمنزلوں پرمشتمل ہوگی ۔جس پر 2؍کروڑ روپے کے صرفہ کااندازہ ہے۔

احاطہ لب حوض (دارالسلام) 1,00,00,000(ایک کروڑروپے)

دارالطلبہ قدیم کے شمال میں مسجد کلثومیہ سے متصل واقع یہ احاطہ محدث کبیرحضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوریؒ کے عہدزریں میں خرید کردہ قطعہ اراضی پر۱۳۴۳ھ میں تعمیر ہوا،اس میں چھوٹے بڑے سات کمرے تھے جن میں تیس سے زیادہ طلبہ کی گنجائش تھی،ایک زمانے تک درجہ تجوید دوم بھی یہاں چلتارہا۔
یہ عمارت بنے سوسال ہوچکے تھے، بہت بوسیدہ ہوچکی تھی،ازسرنو بنانے کی ضرورت کافی دن سے ارباب مدرسہ کے پیش نظر تھی،اسی منصوبہ کے تحت فی الوقت قدیم اورخستہ عمارت توڑ دی گئی ہے تاکہ نئے سرے سے نقشہ کے مطابق عمارت بنائی جاسکے۔
یہ عمارت چارمنزلوں پرمشتمل ہوگی جس پرتقریباًایک کروڑروپے صرفہ کاتخمینہ ہے۔

احاطہ مطبخ 1,00,00,000(ایک کروڑروپے)

۱۳۳۷ھ میں مدرسہ کی جانب سے باقاعدہ دونوں وقت طلبہ عزیز کے کھانے کا انتظام ہوا۔چنانچہ مستقل عمارت کے لئے ۱۳۳۷ھ میں چار سو گز زمین خرید کر دومنزلہ عمارت کی تعمیر ہوئی۔ اب یہ عمارت بھی خستگی اوربوسیدگی کے باعث تعمیرجدیدکی متقاضی تھی،اس کی دیواریں کمزور،اسکی چھتیں خستہ اوربعض جگہ سے گرنے بھی لگی تھی اس لئے کسی ناگہانی سے طلبہ اورعملہ کومحفوظ رکھنے کی خاطرفی الحال بالائی منزل کی چھت دوبارہ تعمیرکرائی گئی ہے ، نقشہ کے مطابق یہ عمارت چار منزلوں پر مشتمل ہوگی جس پرتقریباًایک کروڑ روپے صرفہ کاتخمینہ ہے۔