mazahiruloom@gmail.com 9557424474

مضامین و مقالات

وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے بقلم مولانا محمد سعیدی مدظلہ ناظم و متولی مظاہر علوم وقف سہارنپور

٠٩ / ستمبر ٢٠٢٦
admin@muwsre



ماہرِ علم و فن، پیکرِ حلم و تواضع، منبعِ صدق و صفا، مظہرِ خلقِ نبی، حاملِ شریعت و طریقت، محدثِ دوراں، قطبِ زمان، مفسرِ قرآن، میرِ کارواں، میرے محسن، میرے کرم فرما، میرے تایا فقیہ الاسلام حضرت اقدس مولانا مفتی مظفر حسین صاحب نور اللہ مرقدہ ۱۱؍ ربیع الاول ۱۳۴۸ھ بروز پنجشنبہ شہر سہارنپور میں پیدا ہوئے۔


والدِ محترم نے مظفر حسین و احمد سعید دو نام تجویز کیے، پہلے نام سے مشہور ہو گئے، گیارہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیا، عربی فارسی کی کتابیں مظاہر علوم سہارنپور کے اساتذہ سے پڑھیں، صحیح بخاری کا اکثر حصہ، مقدمہ تقریب، مقدمہ قاموس، بشرح عقود و رسم المفتی، علامہ حصکفی کی درمختار کا کچھ حصہ، سیوطی کی الاتقان، شیخ الاسلام استاذ الاساتذہ حضرت مولانا سید عبد اللطیف صاحب ناظم مظاہر علوم سہارنپور سے، سنن ابی داؤد شریف، بخاری شریف کا معتدبہ حصہ حضرت مولانا سید عبد اللطیف صاحب کے تلمیذِ رشید صاحب اوجز مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی سے، سنن ترمذی، شمائل ترمذی، درمختار کی جلد اول کا اکثر حصہ، مسامرة کے کچھ اسباق اپنے والدِ ماجد فقیہِ اعظم صاحب معلم الحجاج حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب اجراڑوی سے پڑھے۔


سنن نسائی، شرح معانی الآثار معروف بہ طحاوی شریف، حسبِ نصاب مدرسہ اپنے مرشدِ کامل حضرت مولانا محمد اسعد اللہ صاحب رام پوری ناظم مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارنپور سے، صحیح مسلم استاذ الاساتذہ مولانا منظور احمد خان صاحب سہارنپوری سے پڑھیں، فنِ تجوید و قرأت اپنے دور کے مجوّدِ کبیر قاری سید سلیمان دیوبندی سے حاصل کیا، اس فن میں امتیاز و اختصاص کے سبب عنفوانِ شباب ہی میں سب خورد و کلاں کے مابین قاری سے مشہور ہو گئے، یہاں تک کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب بھی ہمیشہ "قاری مظفر" سے یاد فرماتے رہے، مشہور مصنف بسم اللہ بیگ اپنی کتاب "تذکرہ قاریانِ ہند" میں لکھتے ہیں:


"خوش الحان اور ادائیگی پر قادر ہیں، طبعاً شریف، صالح، عابد و ملنسار ہیں، مدرسہ مظاہر علوم کے مدرس اور متعلقہ مسجد کی امامت کا کام بھی انجام دیتے ہیں، میں آپ سے ملا ہوں، بہت خوش اخلاقی سے پیش آئے، اپنی قرأت بھی سنائی۔"


۱۳۶۹ھ میں آپ نے علوم و فنون سے فراغت حاصل کی۔ ۲۹؍ جمادی الثانی ۱۳۷۰ھ بروز یکشنبہ عقدِ ازدواج میں منسلک ہوئے، عقدِ مسنون سنت کے مطابق انتہائی سادہ طریقے پر ہوا، جس میں نہ کوئی نام و نمود تھا، نہ تفاخر و مباہات، نہ رسم و رواج کی پابندی، نہ کوئی خاص اہتمام، مشہور بزرگ، ولی خدا، برگزیدہ شخصیت حضرت شاہ حافظ محمد حسین صاحب اجراڑوی اچانک سہارنپور تشریف لائے، ہمارے یہاں غربت کدہ پر مہمان بنے، دادا میاں نے فقیہ الاسلام کے نکاح کی بات آپ کے سامنے رکھ دی، گویا آپ سے استصوابِ رائے کیا، حافظ صاحب نے چند ضروری استفسارات کے بعد فوراً نکاح کیے جانے کا فیصلہ صادر فرمایا، دوسرے ہی دن ضروری امور کی تکمیل کے بعد حضرت حافظ صاحب کے حکم کی تعمیل کی گئی، دادا میاں اپنے چند احباب و اکابرِ مظاہر کے ساتھ محلہ آکھیباڑان سہارنپور میں جائے نکاح مغلوں والی مسجد میں انتہائی سادگی کے ساتھ پہنچے، نکاح میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی کا انتظار کیا گیا، جن کی پہلے سے آمد طے تھی، جب حضرت مدنی کی تشریف آوری میں تاخیر ہوئی تو استاذ العلماء حضرت اقدس مولانا سید عبد اللطیف صاحب ناظم مظاہر علوم نے نکاح پڑھایا، پھر کچھ دیر قیام کے بعد سب ہی احباب واپس ہو گئے، ایک ماہ بعد رخصتی ہونے پر ولیمہ کیا گیا، جس میں بڑی فراخ دلی سے کھانا کھلایا گیا، اس ولیمے میں بڑے بڑے علماءِ حضرات نے شرکت فرمائی۔


آج کل شادی کیا ہوتی ہے، دین کی ہر طرح بربادی ہوتی ہے، جس میں نہ صرف یہ کہ اللہ و رسول اللہ کی اطاعت نہیں ہوتی بلکہ کھلے طور پر خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کا مظاہرہ ہوتا ہے، سینکڑوں خرافات و منکرات کو اختیار کر کے شادی کے مسنون و مبارک عمل کو انتہائی مکروہ و ملعون صورت دی دی جاتی ہے، اس طرح بجائے ثواب کے اپنے لیے عذاب فراہم کیا جاتا ہے مگر خدا کا شکر کہ ہمارے گھرانے کا وہ روشن مینارہ جس کی بنیاد میرے جدِ امجد حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب مفتی اعظم مظاہر علوم جیسے نیک سیرت، مخلص، متبحر عالمِ دین، کامل متبعِ سنت و شریعت نے رکھی تھی، وہ زندگی کے ہر باب میں نہ صرف ہمارے لیے بلکہ امت کے ہر صاحبِ ایمان کے لیے راہ نما و رہبر ہے، دادا میاں رحمۃ اللہ علیہ نے دیگر معاملات کی طرح شادی بیاہ کے سلسلہ میں بھی ایک ایسا خاص نہج اُجاگر کیا جو سنتِ نبوی کے بالکل مطابق ہے، جس میں منکرات و خرافات سے بالکلیہ اجتناب ہے، آپ کے ذریعہ جو نکاح ہوئے سب ہی کی یہ کیفیت ہے۔ ایسے ہی نکاحوں میں ایک نکاح حضرت فقیہ الاسلام کا بابرکت نکاح بھی ہے، اس میں سنت و شریعت کا پورا پاس تھا، جو بدعات و خرافات سے بالکل پاک تھا، اپنی ندرت و انفرادیت کے لیے نہایت شفاف تھا۔


عقدِ ازدواج میں منسلک کے باوجود آپ نے اپنا علمی سفر جاری رکھا، چنانچہ اس سال ۱۳۷۰ھ میں بھی آپ نے بعض کتبِ معقول و منقول پڑھیں، اسی سال آپ کو معین مفتی بنا دیا گیا، افتاء کی مصروفیت کے ساتھ اس سال آپ نے بعض اسباق بھی پڑھائے، ۱۳۷۱ھ میں نائب مفتی کے عہدے پر فائز ہوئے، ۱۳۷۳ھ میں اپنے استاذ شیخ الاسلام مولانا عبد اللطیف صاحب پورقاسمی، مولانا امیر احمد کاندھلوی کے ہمراہ دعوت و تبلیغ کی خاطر برما کا سفر کیا، جس میں شمعِ رشد و ہدایت مظاہر علوم سہارنپور کے تعارف کے علاوہ اپنے اکابر و اسلاف کی زرّیں خدمات سے بھی روشناس کرایا۔


۱۳۷۷ھ میں صدر مفتی بنائے گئے، ساتھ ہی تدریسی مشاغل بھی حسبِ سابق جاری رہے، مدتِ دراز تک افتاء کے ساتھ مختلف علوم و فنون کی خدمت کی، بہت سی کتابیں پڑھائیں، کنز الدقائق، شرح وقایہ، مختصر المعانی وغیرہ جیسی اہم کتابوں کا درس دیا، سات بار تفسیر جلالین پڑھائی، مرغینانی کی ہدایہ چار بار زیرِ درس رہی، وہ اپنے درس میں بھی مظفر و منصور رہے، تحتانی درجات کے ہر طالب علم کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ جلد از جلد حضرت مفتی صاحب کے درس میں شریک ہو، حضرت کے درس سے لطف اندوز ہو، جو شریک ہوتا وہ سحر ہو جاتا، گرویدگی کے عالم میں آپ پر جاں نثاری کے لیے تیار ہو جاتا، علمِ حدیث میں اللہ نے آپ کو غیر معمولی تفوق و امتیاز عطا فرمایا تھا، جس کی بنا پر وہ اپنے معاصر اساتذہ میں سب پر بھاری تھے، شعبہ افتاء کی مصروفیت کے ساتھ ۱۳۸۱ھ میں استاذ حدیث بنائے گئے، اسی سال پہلی بار مشکوٰۃ شریف پڑھائی، ۱۳۸۳ھ میں مزید ترقی فرماتے ہوئے مشکوٰۃ کے علاوہ سنن نسائی، ابن ماجہ پڑھائی، ۱۳۸۵ھ میں ترمذی پڑھائی۔ اور اس سال حسبِ سابق مشکوٰۃ بھی زیرِ درس رہی۔


حضرت مولانا امیر احمد صاحب کاندھلوی صدر مدرس مظاہر علوم کے انتقالِ ملال کے بعد بخاری و ابو داؤد کے علاوہ دورۂ حدیث شریف کی ساری کتابیں پڑھائیں، بعد میں ان دونوں کتابوں کے پڑھانے کا بھی اتفاق ہوا، ۱۳۹۰ھ میں بھی صحیح بخاری جلدِ ثانی کے علاوہ پورا دورہ پڑھانے کا موقع ملا، آپ کی کل مدتِ تدریس کم و بیش ۵۱ سال ہے، جس میں تحدیث کا زمانہ اکتالیس برس ہے، ترمذی شریف تو آپ کی خاص کتاب تھی، جس کو آپ نے کم و بیش ۳۳ برس پڑھایا۔


آپ بہت سے علوم و فنون میں ماہر و حاذق تھے، فقہ و حدیث و تفسیر آپ کا خاص موضوع تھا، طالب علمی ہی کے زمانہ سے فقہِ حنفی سے خصوصی مناسبت تھی، فقہ و افتاء سے قلبی لگاؤ تھا، طبعی طور پر آپ فقہِ حنفی کی طرف مائل تھے، گویا فقہِ حنفی آپ کی طبیعتِ ثانیہ بن گئی تھی، تمرینِ افتاء اپنے استاذ، استاذ الاساتذہ مولانا عبد اللطیف پورقاسمی کے علاوہ اپنے والدِ ماجد حضرت مفتی سعید احمد صاحب اجراڑوی کی خدمتِ بابرکت میں رہ کر کی، ان کی زندگی میں ایک مدتِ مدید آپ فتاویٰ لکھتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو فقہ و فتاویٰ میں حذاقت و مہارت عطا فرما دی، علماءِ عصر ان کے فتاویٰ پر اعتماد فرمانے لگے، حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب رام پوری، محدثِ کبیر مولانا منظور احمد خان صاحب سہارنپوری کے علاوہ درجۃ المحدث جلیل حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی بھی آپ کے فتاویٰ پر نہ صرف اعتماد فرماتے بلکہ ان کو وسیع نگاہ سے دیکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کے بہت سے فتاویٰ پر ان حضرات کی تقریظات ثبت ہیں، یہ تقریظات ان فتاویٰ کے اسناد و اعتبار کی واضح دلیل ہیں، آپ کے شیخ حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب آپ کے علاوہ کسی سے استفتاء نہ فرماتے، الا ما شاء اللہ، آپ کے فتوے کے علاوہ کسی کے فتوے سے مطمئن نہ ہوتے، وہ آپ سے بڑی محبت فرماتے، حضرت مفتی صاحب کہہ کر پکارتے، تعریف کرتے، کبھی یہاں تک فرما دیتے کہ "میرا بیٹا محمد اللہ میرا جسمانی لڑکا ہے، مظفر تم میرے روحانی بیٹے ہو"۔


ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت والا سے ایک صاحب نے سنا ہے کہ حضرت مولانا اسعد اللہ نے آپ کے متعلق یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اگر کسی کو اس زمانہ میں نوجوان ولی کو دیکھنا ہو تو ان کو دیکھ لے (حضرت فقیہ الاسلام کی طرف اشارہ ہے) فرمایا واقعی حضرت کو مجھ سے بڑا تعلق تھا، فرماتے تھے کہ "بیٹے محمد اللہ سے بھی تعلق ہے مگر ان سے جسمانی تعلق ہے جو ایک فطری بات ہے لیکن روحانی اعتبار سے جس قدر تعلق تم سے ہے ان سے نہیں، حضرت کی مجھ پر بہت ہی زیادہ شفقتیں تھیں، جو کچھ بھی ہے ان کی دعاؤں کا ثمرہ ہے"۔


شیخ عبد القادر صاحب رائے پوری، مولانا سید حسین احمد مدنی دونوں حضرات کے بعض خلفاء کے علاوہ حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب نے بھی آپ کو سلاسلِ اربعہ میں بیعت و ارشاد کی اجازت عطا فرمائی تھی، حضرت مولانا محمد اسعد اللہ صاحب اس اجازت سے بہت خوش تھے، اپنے بعض خادموں سے فرمایا کہ حضرت شیخ مولانا محمد زکریا کاندھلوی کو (جو اس وقت مکہ میں مقیم تھے) لکھ دو کہ میں نے مفتی مظفر صاحب کو اجازت دے دی ہے، اس مسرت کا سبب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ آپ ان کو اس عظیم منصب کا صحیح معنی میں اہل سمجھتے تھے، اس لیے کہ حضرت فقیہ الاسلام نہ صرف اخلاقِ نبویہ سے متصف اہلِ علم دین تھے بلکہ اس منصبِ جلیل کے پوری طرح اہل بھی تھے۔


آپ اخلاقِ حسنہ کا پیکر تھے، تقویٰ و طہارت، پاکیزگی، پرہیزگاری، تواضع، صلاحِ اعمال، حسنِ اخلاق، نسبتِ شیخ، کرم و محبت، قناعت پسندی میں وہ اپنے اسلاف کا نمونہ تھے، دنیا کی دلفریب رعنائیوں سے بیزار تھے، اذکار و عبادات پر پابندی کے ساتھ کاربند تھے، آپ کی طبیعت پر رحمت و شفقت کا عنصر نمایاں تھا، جود و سخا آپ کی طبیعت تھی، طالب علموں پر بھی کبھی آپ خاموشی سے بڑی رقم صرف فرما دیتے، قناعت پسندی، اعزہ کی خبرگیری ان کا نمایاں وصفِ جمیل تھا، میراثِ پدری میں ملنے والی زمین و جائیداد آپ کے اعزہ کے تصرف میں رہی، باوجودِ ضرورت و قدرت کے کبھی اس کو لینا پسند نہیں کیا، کبھی اس کا بدل یا اجرت طلب نہیں کی، ان کی فرمائش کے باوجود ہمیشہ اس کے لینے سے انکار فرماتے رہے۔


رمضان ۱۳۸۵ھ میں حضرت مولانا اسعد اللہ رام پوری، مولانا محمد زکریا کاندھلوی محدث کے علاوہ دیگر اکابر و مشائخ کی جانب سے نیابت کے منصب پر فائز ہوئے، پھر حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب کے سانحۂ ارتحال کے بعد آپ ناظمِ اعلیٰ ہو گئے، گو آپ نے اس عہدہ سے انکار فرمایا مگر اکابر کے اصرارِ پیہم نے اس پر مجبور کیا، آپ اس وقت سے آخرِ حیات تک اس عظیم ادارے کی نظامتِ جلیلہ پر فائز رہے، آپ کے دورِ اہتمام میں مدرسے نے غیر معمولی ترقی کی، بہت سی نئی عمارتیں وجود میں آئیں، طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا، کتابوں کی تعداد میں بڑھوتری ہوئی، طلبہ کے وظائف، مدرسین کے مشاہرے بڑھے، ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، شعبہ تخصصی فی التفسیر موجودہ نہج پر، شعبہ تدریب افتاء بھی آپ کی یادگار ہے، لائبریری کی کتابیں آپ کے دورِ نظامت میں تین لاکھ تک پہنچ گئیں، عظیم الشان دارالحدیث و دارالتفسیر بھی آپ کے عہدِ میمون کی یادگار ہیں۔


بہت سے مدارس و مساجد کا سنگِ بنیاد بھی آپ کے دستِ مبارک سے وجود میں آیا، آپ بہت سے مدارسِ اسلامیہ کی سرپرستی بھی فرماتے، حسبِ وسعت و طاقت ان کی امداد و اعانت بھی فرماتے، ان کے سالانہ اجلاس میں بھی شرکت فرماتے، اجلاس کے موقع پر کبھی اجمالی کبھی تفصیلی وعظ و نصیحت فرماتے، آپ کے وعظ میں حق تعالیٰ شانہٗ نے غیر معمولی تاثیر رکھی تھی جس کی وجہ سے سامعین کے دلوں پر غیر معمولی اثر ہوتا، دل پسیج جاتے، فکر و عمل کا جذبہ بیدار ہوتا، شہر و نواحِ شہر میں کثرت سے نکاح بھی پڑھاتے، دعا کے لیے بھی تشریف لے جاتے، بیمار کی مزاج پرسی بھی فرماتے، اس کے علاوہ نمازِ جنازہ میں بھی شرکت فرماتے، شہر و نواحِ شہر کی تاریخ میں شاید کوئی بزرگ ایسے نہیں جنہوں نے حضرت سے زیادہ نکاح پڑھائے ہوں یا آپ سے زیادہ جنازوں کی نماز پڑھائی ہو۔


آپ نے بہت سی کتابیں بھی تصنیف فرمائیں، بہت سے چھوٹے بڑے رسائل و کتب آپ کے ہاتھوں وجود میں آئے، متعدد حواشی و شروح مسودات کی شکل میں آپ کے رہنِ منت ہیں، آپ جس کتاب کو پڑھاتے اس کا حاشیہ ضرور تحریر فرماتے جو عجیب و غریب تحقیقات پر مشتمل ہوتا، آپ کی چند کتابیں یہ ہیں۔ فضائلِ مسواک، فضائلِ تہجد، فضائلِ جماعت، الدر السنی فی حیات النبیﷺ، فضائلِ الاعمال یعنی بخشش کے وعدے، مجموعہ خطبات، ملفوظاتِ فقیہ الاسلام، ارشاداتِ فقیہ الاسلام، افاداتِ فقیہ الاسلام وغیرہ، بہت سی جلدوں پر مشتمل وقیع فتاویٰ۔


علمِ دین کی نشر و اشاعت کے لیے آپ کی زندگی وقف تھی، صبح و شام آپ علمی سفر طے فرماتے، تبلیغی اسفار بھی کثرت سے فرمانے کے عادی تھے، ضعف و نقاہت، بیماری پیہم آپ کے لیے کسی علمی مشغلے، دینی خدمت یا تبلیغی سفر سے مانع نہ ہوتیں، یوپی کے مختلف دیہی و شہری علاقوں کے سفر فرماتے، بیرونی ممالک کے سفر سے آپ انکار فرما دیتے، اصرارِ بسیار کے بعد بھی غیر ملکی سفر بھی فرمالیتے مگر اس کو پسند نہ فرماتے، اس کی عموماً دو وجہیں بیان فرماتے۔


اول یہ کہ وہ حلقے دوسرے علماء و بزرگانِ دین کے حلقے ہیں، وہاں جانا گویا ان کے مریدین و متوسلین کو اپنے حلقے میں داخل کی دعوت و ترغیب دینا ہے۔


دوسری وجہ یہ کہ مالداروں کے یہاں تو ہر شخص جانے کو تیار ہو جاتا ہے، ان بیچارے غرباء کے پاس کون جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر آپ کا سفر دیہات میں ہوتا، دولت مندوں سے زیادہ غرباء و فقراء کا تعلق آپ کو پسند تھا، بعض اہلِ تعلق کے اصرار پر بمبئی، گجرات، کلکتہ، بنگلور، بنگلہ دیش، برما، کشمیر و بنکاک، افریقہ وغیرہ کا سفر بھی فرمایا ہے، گو اس طرح کے دلفریب مقامات پر جانا آپ پسند نہ فرماتے تھے۔


سفر و حضر میں کثرت سے لوگ آپ سے بیعت بھی ہوتے، ہندوستان کے مختلف مقامات میں کثرت سے آپ کے مریدین ملتے ہیں، ایک خلقِ کثیر نے آپ سے راہِ سلوک میں استفادہ کیا ہے، اخیر عمر میں تو آپ مرجع العوام والخواص بن گئے تھے، وقت کے بڑے بڑے علماء آپ کے ہاتھ پر توبہ کر کے ترقی کی آخری معراج تک پہنچ گئے، منزلِ مقصود تک واصل ہو کر اجازت و بیعت و ارشاد حاصل کرنے والے چند علماء کے نام بطورِ نمونہ درجِ ذیل ہیں:


حضرت مولانا اطہر حسین صاحب مدظلہ مظاہر علوم (وقف) سہارنپور، حضرت مولانا محمد یسین صاحب مدظلہ شیخ الحدیث مفتاح العلوم جلال آباد، حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری، حضرت مولانا مفتی نصیر احمد بروتی، علامہ محمد عثمان غنی صاحب شیخ الحدیث مظاہر علوم، مفتی مہربان علی بروتی، حضرت مولانا حبیب احمد صاحب باندوی مہتمم جامعہ ہتھورا باندہ، مولانا مفتی عبید اللہ صاحب اسعدی شیخ الحدیث باندہ، مولانا محمد سورتی برما، مولانا محمد الیاس میرٹھی گجرات، مولانا محمد اسلم کاشف العلوم محتشم پور، مولانا محمد عبد اللہ طارق دہلوی۔


مدت العمر آپ علمی دریا بہاتے رہے، علمِ حدیث کی لاجواب خدمت انجام دیتے رہے، آپ ہی کی نظرِ کرم نے سیکڑوں کو اس میدان کا شناور بنا دیا، کتنے ہی لوگ آپ کے سامنے زانوے تلمذ طے کر کے بحرِ حدیث کے غواص بن گئے، کتنے ہی محدث کہلائے، کتنے ہی مفسر بنے، بہت سے جامع العلوم والفتون بن گئے، ایسے ہی چند افراد کے نام درجِ ذیل ہیں جو حضرت فقیہ الاسلام کے سامنے زانوے تلمذ طے کر کے آج منزلِ مقصود کی طرف رواں دواں ہیں۔


مولانا اطہر حسین شیخ الادب مظاہر علوم (وقف)، مولانا سید وقار علی بجنوری استاذ الفرائض مظاہر علوم (وقف)، شیخ الحدیث مسند الہند مولانا محمد یونس جونپوری، مولانا محمد یعقوب سہارنپوری صدر المدرسین مظاہر علوم (وقف)، مولانا نفیس الدین بجنوری استاذ حدیث مظاہر علوم (وقف)، مولانا عبد الخالق استاذ حدیث مظاہر علوم (وقف)، مولانا نسیم احمد غازی شیخ الحدیث جامع الہدیٰ مراد آباد، مولانا محمد عاقل سہارنپوری، مولانا محمد اسلم قاسمی استاذ (وقف) دارالعلوم دیوبند، مولانا سید سلمان سہارنپوری، مولانا قاری رضوان نسیم، مولانا غلام محمد وستانوی (اکلل کنواں)، مولانا مفتی محمد عبد اللہ مظہر سعادت بانسواڑہ گجرات، مفتی محمد زید مظاہری ندوی استاذ ندوۃ العلماء لکھنؤ، مولانا وسیم احمد شیخ الحدیث اشرف العلوم گنگوہ، مولانا محمد عبد اللہ طارق دہلوی، مولانا قاری عاشق الہیٰ محدث جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ، مولانا محمد انور استاذ حدیث گنگوہ، مولانا عبد الحفیظ مکی (مکہ المکرمہ)۔


مولانا حبیب اللہ مدنی (مدینہ منورہ)، مولانا یوسف متالا (لندن)، مفتی عبد الودود مظاہری (حیدرآباد)، مولانا عبد الرحمن حیدرآبادی (جدہ)، مولانا محمد ایوب مظاہری (انگلینڈ)، مولانا محمد وادی، مولانا موسیٰ وادی (افریقہ)۔


حضرت فقیہ الاسلام اپنی مجلس میں اکثر خاموش رہتے، بہت کم بولتے، سوال ہی پر جواب ارشاد فرماتے لیکن جب درس دیتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ کسی بڑے دریا کا دہانہ کھل گیا ہے، دورانِ وعظ بھی مضامین کا اس قدر ورود ہوتا کہ بات سے بات نکلتی جاتی، ایسا محسوس ہوتا کہ عالمِ ناسوت سے تعلق ختم ہو کر عالمِ پاک سے رابطہ قائم ہو گیا ہے، آپ کا بیان انتہائی مؤثر و جامع ہوتا، سادہ الفاظ میں بھرپور معانی کا ورود ہوتا، آپ خالص الہامی بیان فرماتے، کبھی خود ارشاد فرماتے "آمد ہوتی ہے، آورد نہیں ہوتی"، بسا اوقات خالی ذہن ہوتے لیکن جب بیان شروع ہوتا تو مضامین کی آمد خود بخود ہونے لگتی، اس طرح بڑی خوش اسلوبی سے بیان مکمل ہو جاتا، کبھی آپ اپنی مجلس میں متحیر العقول واقعات بھی ارشاد فرماتے، بسا اوقات سوال کا جواب فوراً نہ دیتے بلکہ تحقیق و مراجعت کے بعد ارشاد فرماتے۔


ایک صاحب نے ملا علی قاری کی مرقاة کے حوالہ سے عرض کیا کہ اس میں جامع کرامات الانام سے ایک بزرگ شیخ موسیٰ سدرانی کا معمول نقل کیا ہے کہ وہ ستر ہزار قرآن کریم روز ختم کرتے تھے، میں سمجھا کہ علی قاری سے نقل تعداد میں غلطی ہو گئی ہے، میں نے نفحات دیکھی تو اس میں صراحت کے ساتھ ہشتاد ہزار مذکور تھا، اس پر مجھے حیرت ہوئی، حضرت مفتی صاحب یہ سن کر خاموش رہے، پھر ایک روز وہ صاحب تشریف لائے تو حضرت فقیہ الاسلام کے دستِ مبارک میں لوامع العقول شرح رموز التوحید بھی تھی، ان صاحب کو دیکھ کر فرمایا کہ لیجئے، آپ ستر ہزار پر حیرت ظاہر کرتے تھے، یہ دیکھئے اس کتاب میں ختمِ قرآن کی اس سے بھی بڑی تعداد بھی مذکور ہے، اس میں علی مرصفی کا معمول منقول تھا کہ "علامہ شعرانی کے استاذ علی مرصفی دن رات میں تین لاکھ ساٹھ ہزار قرآن کریم ختم فرماتے تھے"۔


شعرانی نے جب اس بڑی تعداد میں اپنے استاذ کا یہ معمول سنا تو استاذ سے پوچھا کہ ہر ہر حرف آواز سے پڑھتے ہیں؟ فرمایا جی ہاں، کیونکہ میں رسول اللہ کے تابعین میں سے ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اعزاز و اکرام میں میرے لیے زمانہ کو دراز فرما دیا ہے، صاحبِ لوامع العقول فرماتے ہیں کہ یہ کمال اس وقت حاصل ہوتا ہے جب روحانیت جسمانیت پر غالب آ جاتی ہے تو اس طرح کی برکت و آسانی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے، ملا علی قاری نے اس کو طے لسان و بسطِ زمان پر محمول کیا ہے۔


آپ کی مجلس میں پریشان حال لوگ حاضر ہو کر اپنی پریشانی کا علاج معلوم کرتے تو آپ ایسا شافی جواب عنایت فرماتے کہ آنے والے کی تسلی ہو جاتی، گویا اس کا مرض کافور ہو جاتا، آپ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ ایسے شخص کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس کے لیے تسلی کے کلمات ارشاد فرماتے، ایک بار ایسے ہی پریشان حال نے اپنا دکھ درد ظاہر کیا تو آپ نے یہ واقعہ سنایا کہ


ایک شخص بہت پریشان تھا، گھریلو پریشانیاں بھی تھیں، کاروبار کی طرف سے بھی الجھنوں میں مبتلا تھا، وہ چاہتا تھا کہ حضرت خضرؑ سے ملاقات ہو جائے، اس نے اللہ رب العزت سے دعا کی "اے اللہ میرے لیے کوئی راستہ کھول دے، میں بہت پریشان ہوں، تیرا ذلیل و خوار بندہ ہوں، خضرؑ سے ملا دیجئے"، دعا قبول ہو گئی، ایک روز حضرت خضرؑ سے ملاقات ہو گئی مگر اس شخص نے حضرت خضرؑ کو نہ پہچانا، خود حضرت خضرؑ نے ہی فرمایا کہ میں خضر ہوں، کیا بات ہے، کیوں پریشان ہو، اس شخص نے اپنا پورا حال سنایا، کہنے لگا میرے لیے ہمیشہ بہت راحت و آرام سے زندگی بسر ہونے کی دعا کر دیجئے، حضرت خضرؑ نے انکار کیا، اس نے کئی بار اصرار کیا تو حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ یہ دعا کرنا تو بے ادبی ہے۔


ہاں تم کوئی بے فکر خوشحال آدمی تلاش کر کے مجھے بتاؤ، پھر میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے حق میں اس جیسا ہونے کی دعا کر دوں گا، یہ شخص مطمئن ہو گیا، اس نے ایسے ہی خوشحال آدمی کی تلاش شروع کر دی، ایک روز دیکھا کہ ایک شخص ایک بڑے عالیشان مکان میں بیٹھا ہوا ہے، جو ہر طرح کے سامانِ عیش کے ساتھ بڑے اطمینان و سکون سے گدے پر بیٹھا ہے، چھوٹے چھوٹے بچے ادھر ادھر گھوم رہے ہیں، حشم و خدم اس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں، بہت دیر تک یہ منظر دیکھتا رہا، سوچنے لگا کہ اب میرا کام ہو گیا ہے، حضرت خضرؑ سے ایسا ہونے کی دعا کراؤں گا، جب حضرت خضرؑ سے ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ حضرت، آپ نے خوشحال آدمی تلاش کرنے کے لیے فرمایا تھا، مطمئن خوشحال آدمی مجھے مل گیا، فرمایا کہاں ہے؟ عرض کیا فلاں جگہ ہے، حضرت خضرؑ اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر لے چلے، اس کے مکان پر پہنچے، اجلاسِ خانہ (صاحبِ خانہ) نے معلوم کیا کہاں سے آئے ہو، تعارف ہوا، تعارف کے بعد حضرت خضرؑ نے مزاج پوچھا، وہ خاموش رہا، پھر بولا کہ حضرت، میرا مزاج کیا پوچھتے ہو، اس دنیا میں مجھ سے زیادہ کوئی پریشان نہیں، جتنی پریشانیاں مجھے ہیں شاید ہی کسی کو ہوں، فرمایا کیا پریشانی ہے، عرض کیا اظہار کروں تو پریشانی، نہ کروں تو مشکل، لیکن جب آپ پوچھ رہے ہیں تو بتاتا ہوں، قصہ یہ ہے کہ میری بیوی بہت حسین و جمیل، بڑی با اخلاق تھی، مجھے اس سے بہت زیادہ محبت تھی، اتفاق سے وہ بیمار ہو گئی، یہ بیماری اتنی بڑھی کہ مرنے کا وقت قریب آ گیا، جوں جوں اس کی بیماری بڑھی، میرے رنج و الم میں اضافہ ہوتا گیا، ایک روز پریشانی کے عالم میں اس کی چارپائی کے قریب بیٹھا تھا، اس کی حالت دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، میری حالت دیکھ کر کہنے لگی کیوں آنسو بہاتے ہو، مجھے پتہ ہے کہ میرا دم نکلتے ہی تم دوسری شادی کر لوگے، مجھے اس کی اس بات کا بڑا احساس ہوا، میں نے اس سے بہت وعدے کیے مگر اسے یقین نہ آیا، میں نے اس کو اطمینان دلانے کے لیے اپنا عضوِ تناسل کاٹ ڈالا، اس کے بعد اللہ کی قدرت وہ اچھی ہو گئی، میرے لیے یہ مصیبت کہ عضوِ تناسل کاٹ کر میرے لیے بالکل بیکار ہو گیا، آپ یہ بچے جو دیکھ رہے ہیں، ان حلال زادوں کی اولاد ہیں، ہر قسم کا سامانِ عیش موجود ہے مگر بیکار ہے، حضرت خضرؑ اس کو دعا دیتے ہوئے واپس لوٹنے لگے، پھر اس شخص سے فرمانے لگے بولو، تمہارے لیے ایسا ہی ہو جانے کی دعا کر دوں؟ کہنے لگا حضرت، میں جس حال میں ہوں ٹھیک ہوں، اللہ جس حال میں رکھے اس پر راضی رہوں گا۔


یہ قصہ سنا کر حضرت نے فرمایا تم بھی پریشانی محسوس کرتے ہو، میاں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ضروری تدبیر کے ساتھ صبر و تحمل کرو، اللہ سے دعا کرتے رہو، خدا جس حال میں رکھے راضی رہو۔ اس شخص کو حضرت والا کی اس گفتگو سے غیر معمولی تسلی ہوئی، شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت ہو گیا۔


حضرت فقیہ الاسلام انتہائی رقیق القلب تھے، فکرِ آخرت ہمیشہ دامن گیر رہتی، شب بیداری فرماتے، رات دیر گئے تک یادِ خداوندی میں مصروف رہتے، کبھی تنہائی میں بہت روتے، دعا میں عموماً آواز بھر جاتی، اندرونِ قلب سے مغفرت کی دعا فرماتے، وہ طالبِ مغفرت کے الفاظ پر اکثر رو دیتے، آپ کے گریہ و بکاء سے مجمع بھی رو پڑتا، دعا میں سوز و گداز ہوتا، آپ اپنے کمالات کی نفی فرماتے، باوجودِ بے شمار کمالات کے فکرِ آخرت سے اکثر روتے، ایک بار ارشاد فرمایا۔


(اعزہ و اکرام کا یہ منظر دیکھ کر خیال پیدا ہوتا ہے کہ) کہیں یہ استدراج تو نہیں، یہ فرما کر رو دیے، عرض کیا گیا کہ جہاں استدراج ہوتا ہے وہاں اس طرف توجہ نہیں ہوتی، یہ احساس خود استدراج نہ ہونے کی علامت ہے، اسی دوران ارشاد فرمایا۔


دیوبند میں ایک بزرگ تھے، بہت بڑے محدث تھے، علامہ انور شاہ کشمیریؒ، ان کا حافظہ بہت قوی تھا، ایک روز تنہائی میں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے، مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ فرماتے ہیں کہ میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا، دیکھا کہ زار و قطار رو رہے ہیں، میں نے عرض کیا کیا بات ہے؟ فرمایا میں نے جتنی عمر گزاری سب بیکار گئی، عرض کیا آپ نے عمر بھر حدیثِ پاک کی خدمت کی، ہزار بار ارشاد گرامی دیکھیے، جو دین کی خدمت پر لگے ہوئے ہیں یہ سب آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہیں، فرمایا میں نے ساری عمر اس میں گزار دی کہ امام اعظمؒ نے یہ فرمایا، امام شافعیؒ نے یہ فرمایا، فلاں کا قول زیادہ قوی ہے، فلاں کا کمزور ہے، ہماری عمر اسی میں گزر گئی، اب احساس ہو رہا ہے کہ قبر میں ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں ہوگا، منکر نکیر میری تقریر نہیں سنیں گے۔


یہ واقعہ سنا کر فرمایا کہ یہ ان حضرات کے کامل الایمان ہونے کی علامت تھی کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ احساس ہو رہا ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ تواضع، فکرِ آخرت کی جو کیفیت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی تھی وہی کیفیت اہل اللہ میں بھی پائی جاتی ہے، حضرت والا میں بھی یہ وصف بدرجہ اتم موجود تھا، جس کا اہلِ نظر نے بارہا مشاہدہ کر کے اپنے لیے نصیحت و موعظت کا سامان فراہم کیا ہے۔


اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ چین و سکون عطا فرمائے، ان کے فیوض و برکات کے تابندہ نقوش کو ہمارے لیے مشعلِ راہ بنائے۔ آمین